پشاور کی مسجد پر خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 63 ہو گئی

اپشاور: لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کے ترجمان نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ پشاور کی ایک مسجد میں ایک روز قبل ہونے والے خودکش بم حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 63 ہو گئی، زخمیوں میں سے چھ مزید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

اس سے ایک روز قبل پشاور کے علاقے کوچہ رسالدار میں قصہ خوانی بازار کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش بم حملے میں کم از کم 57 نمازی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جب کہ 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
ایک بیان میں ایل آر ایچ کے ترجمان نے کہا کہ کل 57 لاشیں اسپتال لائی گئیں۔

انہوں نے کہا، ’’37 زخمی اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے پانچ انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت ہو گئی ہے۔

ایک اہم پیشرفت میں، پشاور میں مسجد کے اندر خودکش دھماکے میں ملوث تینوں مشتبہ افراد کی خیبر پختونخواہ پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے شناخت کر لی ہے، وزیر داخلہ شیخ رشید نے آج انکشاف کیا۔

اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کیے گئے ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ پولیس اور تحقیقاتی ادارے ملزمان کی شناخت کے قریب ہیں اور امید ہے کہ آئندہ دو سے تین روز میں انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے اس سے قبل ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والی غیر ملکی قوتوں کے ملوث ہونے کا اشارہ دیا تھا اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ویڈیو بیان میں، وزیر نے اپوزیشن پر بھی زور دیا کہ وہ لوگوں میں ابہام اور غلط فہمی پیدا نہ کریں اور خبردار کیا، "سیلاب، زلزلہ یا وبائی امراض ملک کو تباہ نہیں کرتے بلکہ افواہیں اور انارکی ریاست کو نقصان پہنچاتی ہے۔”

مقدمہ درج
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پشاور کی مسجد کے اندر خودکش دھماکے سے متعلق مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

پولیس نے جمعہ کے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روایتی شلوار قمیض میں ملبوس ایک شخص مسجد میں داخل ہوتے ہی دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار رہا ہے۔

اس کے بعد اس نے بال بیرنگ سے بھری خودکش جیکٹ سے دھماکہ کیا جو نماز جمعہ شروع ہونے سے چند لمحے قبل لوگوں سے بھری عمارت میں پھٹ گئی۔

اطلاعات کے مطابق تفتیش کار ان لوگوں کا بائیو میٹرک ڈیٹا چیک کر رہے ہیں جو حال ہی میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button