ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی|بین الصوبائی کاﺅنٹر ٹیرارزم کانفرنس کی صدارت کی

خیبرپختونخوا :(مخلص اخبار تازہ ترین) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے پہلی بین الصوبائی کاﺅنٹر ٹیرارزم کانفرنس کی صدارت کی ۔ کانفرنس میں ملک کے تمام کاﺅنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کی شرکت ۔چاروں صوبوں کے کاﺅنٹرٹیرارزم ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔کانفرنس میں دہشت گردوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں ، سنٹرلائزڈ ڈیٹابیس اور کانفرنس کے ہر مہینے انعقاد پر اتفاق ۔

کانفرنس کے شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں کو مشعل راہ قرار دیا ۔ سی ٹی ڈی محکموں کے مابین مربوط میکنزم سے دہشت گردی کی بیخ کنی موثر انداز میں کی جاسکتی ہے ۔ آئی جی پی انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ایک ویڈیو لنک کانفرنس کی صدارت کی۔ جس میں ملک بھر کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے اعلیٰ افسران اور ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان میں شامل اداروں کے ارکان شریک ہوئے ۔

ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز، ڈی آئی جی آپریشنز، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اور ڈائریکٹر ریسرچ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اجلاس میں دہشت گردی کے واقعات، دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے، رقوم کی ترسیل اور اس کے دہشت گردی میں استعمال اور دہشت گرد تنظیموں سے روابط اور ان کے خلاف اب تک درج مقدمات، عدالت میں چالان شدہ اور ان میں سزا پانے والے مقدمات کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔ تمام صوبوں کے سی ٹی ڈی سربراہان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے اور ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل اور تجاویز کے بارے میں بریفنگ دی ۔

اجلاس میں قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد رونما ہونے والی صورتحال اور بالخصوص وہاں پر دہشت گردی کے درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اور کوششیں اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کا مشترکہ ڈیٹا بیس قائم کرنے پر بھی اصولی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں بھتہ خوری کے واقعات میں استعمال ہونے والی سمز بالخصوص پڑوسی ملک سے موصول ہونیوالی بھتہ کی موبائل کالز اور ان کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں کو بھتہ کی رقم فراہم کرنے میں سہولت کاروں کے خلاف مشترکہ کاروائی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اجلاس میں بالخصوص سمگلنگ، منشیات فروشی، ہنڈی حوالہ اور بھتہ خوری کے دھندے سے حاصل ہونے والی رقوم سے کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے بھی مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کا جائزہ لیا گیا ۔اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کرنے پر محکمہ انسداد دہشت گردی خیبر پختونخوا کی قربانیوں اور کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے مشعل راہ قرار دیاگیا۔ اجلاس میں اس قسم کی کانفرنس ہر مہینے منعقد کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
آئی جی پی ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے اپنے خطاب میں ملک بھر کے سی ٹی ڈی محکموں کے مابین ایک مربوط میکینزم کے تحت اطلاعات کے باہمی تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کے شرکاء نے آئی جی پی کی اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سنگ میل قرار دیا۔ آئی جی پی نے کانفرنس کے شرکاء کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے دروازے سب کے لیے برابر کھولے ہیں اور وہ اس سلسلے میں اُن سے ہر وقت رابطہ کرسکتے ہیں۔ آئی جی پی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف باہمی مقاصد کے فوری حصول کے لیے نیشنل کاﺅنٹر ٹیرارزم اتھارٹی کے ساتھ ضروری قریبی رابطے کے لیے جلد از جلد اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔


متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button