معاشی ٹیم میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف نے شرائط سخت کیں، یونس ڈھاگہ

اسلام آباد: سابق سیکرٹری خزانہ محمد یونس ڈھاگہ نے جمعہ کو کہا کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کی وجہ سے قومی معیشت پٹڑی سے اتر گئی، اور اسے آج تک ٹریک پر نہیں لایا جا سکتا۔
آج ہفتے کے دن مخلص نیوز کے نمائندہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے (یونس ڈھاگہ) کہا کہ حکومت کی اقتصادی ٹیم کے ارکان سے اختلافات پر انہیں وزارت خزانہ چھوڑنا پڑی۔ انہیں حکومت کی اقتصادی پالیسی پر تحفظات تھے، خاص طور پر نئے پروگرام کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت۔

انہوں نے کہا کہ جب فروری 2021 میں فنڈ کے ساتھ ابتدائی طور پر بات چیت شروع کی گئی تھی، اس نے نئے پروگرام کے لیے کوئی سخت شرائط و ضوابط پیش نہیں کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دیر سے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قومی معیشت پر کچھ اثر پڑا لیکن حکومت پاکستان کی اس حوالے سے واضح پالیسی ہونی چاہیے۔

ڈھاگا نے کہا کہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اقتصادی ٹیموں میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف نے بالکل مختلف شرائط و ضوابط پیش کیے، جن کی نوعیت سخت تھی۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی ٹیموں کا تسلسل، معاہدوں پر عمل درآمد اور پالیسیوں میں استقامت معیشت کی مضبوطی کے لیے اہم ہے۔ ڈھاگا نے کہا کہ پالیسیوں پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ کہنا غلط ہو گا کہ اضافی بجلی پیدا کرنا غلط فیصلہ تھا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button