این اے 133 لاہور ضمنی انتخاب

این اے 133 لاہور ضمنی انتخاب: مسلم لیگ ن چوتھی بار نشست پر براجمان؟

لاہور: لاہور کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخاب کے لیے 254 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے، مسلم لیگ (ن) فاتح بن کر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ جیت پارٹی کو چوتھی بار این اے 133 کی نشست اپنے پاس رکھنے کے قابل بنائے گی۔
پولنگ کا عمل آج صبح 8 بجے شروع ہوا اور بغیر کسی رکاوٹ کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ شام 5 بجے پولنگ سٹیشنوں کے گیٹ بند کر دیے گئے تاکہ زیادہ لوگوں کو اندر جانے سے روکا جا سکے۔

نجی ٹی وی کے مطابق لاہور میں سرد موسم کے وجہ سے ضمنی انتخاب پر ووٹرز کا ردعمل کافی ‘ٹھنڈا’ رہا۔

جیو نیوز کے 205 پولنگ سٹیشنوں کے لیے حاصل کیے گئے غیر سرکاری، ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی شائستہ پرویز ملک 37,139 ووٹوں کے ساتھ برتری پر ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اسلم گل 23 ہزار 684 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 133 کی نشست مسلم لیگ ن کے ایم این اے پرویز ملک کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی جو 11 اکتوبر کو دل کی تکلیف کے باعث انتقال کر گئے تھے۔

پنجاب الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں 254 پولنگ اسٹیشنز ہیں جن میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 اور سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔

جن میں سے 199 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ مردوں اور خواتین کے لیے 200 کے قریب الگ الگ پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں اور 54 مخلوط پولنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں۔

حلقہ این اے 133 میں ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 40 ہزار 485 ہے جن میں 2 لاکھ 33 ہزار 585 مرد ووٹرز اور 2 لاکھ 6 ہزار 927 خواتین ووٹرز ہیں۔

انتخابات میں 11 امیدوار میدان میں تھے جن میں سابق سیٹ ہولڈر کی بیوہ شائستہ پرویز ملک اور پیپلز پارٹی کے اسلم گل شامل تھے۔

پی پی پی نے پنجاب میں پارٹی کی بحالی کی امید میں لاہور میں این اے 133 کے ضمنی انتخاب کے لیے بھرپور مہم چلائی، جسے حریف مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) ماضی میں تین بار یہ نشست اپنے پاس رکھ چکی ہے جب کہ 2018 میں پرویز ملک 89,699 ووٹ لے کر، وحید عالم خان نے 2013 میں 100,000 ووٹوں سے اور نصیر بھٹہ نے 2008 میں 32,000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور ان کی کورنگ امیدوار ان کی اہلیہ مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار دوڑ میں شامل نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں