سعودی عرب میں وبائی مرض

سعودی عرب میں وبائی مرض کو کنٹرول کرنے کے لئے اہم اعلامیہ جاری

سعودی عرب: آج 5 فروری ہے آج کی اہم ترین خبروں کا آغاز قرآن پاک کی اس آیت کے ترجمے سے کیا جاتا ہے سورہ بقرہ کی آیت 102 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اور وہ خوب جانتے تھے کہ جادو کرنے والوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اتنی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا کاش کے وہ لوگ سمجھتے اللہ رب العزت ہمیں ان قرآنی آیات اور حدیث کو سمجھ کر اس پر مکمل عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ناضر ین آج کی خبر میں بہت ہی اہم معلومات ہیں خبر کو مکمل دیکھا کریں لائک کرکے دوستوں سے شئیر بھی کیجئے گا ۔

سعودی حکومت کی جانب سے وبائی مرض کورونا کو کنٹرول کرنے کے لئے جو اہم اعلامیہ جاری کیا تھا اس پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیاگیا ہے ۔ سعودیہ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ہزاروں ہوٹلز اور قہوہ خانے ان میں بیٹھ کر کھانے پینے کی جو سہولیات تھی وہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ بڑے شاپنگ سینٹرز کو بند کر دیا گیا ہے سینما ہال بند کر دیے گئے ہیں صرف ریاض دارالحکومت جو ریاض ریجن ہے اسی میں تقریبا ساڑھے نو ہزار سے زیادہ ہوٹلز اور قہوہ خانے مکمل طور پر بند کردی گئی ہیں۔

سعودی عرب میں وبائی مرض
سعودی عرب میں وبائی مرض کورونا کی موجودہ حالات


ہوٹل اور قہوہ خانے ریاض ریجن سمیت مملکت کے مختلف شہروں ، گاؤں اور قصبوں میں واقع ہیں ہر گاؤں اور قصبوں میں واقع جتنے بھی ہوٹل ہے، سو فیصد اس پابندی پر عمل کر رہے ہیں۔ سعودی وزارت بلدیہ نے وزارت داخلہ کے حکم کی تعمیل کے لیے مکمل طور پر چھاپہ مار کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی ہیں ۔ ایسے شادی ہال ہوٹلز یا تفریح مراکز یا کسی بھی سنیما ، سپورٹ سنٹرز یا بڑے شاپنگ سینٹر ، جہاں پر بھی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی گئی تو اُن کو بھاری جرمانے کئے جائیں گے۔ پہلی فرصت میں انہیں چار سے پانچ دن کے لیے بند کرنے کے لیے کہا جائے گا دوسری بار دو ہفتے کے لیے اور تیسری بار ایک مہینے کے ساتھ ساتھ جرمانے بھی کیے جائیں گے۔

ریاض کی وزارت بلدیہ نے واضح طور پر اہم ترین انتبا یعنی وارننگ جاری کر دی ہے کہ کسی بھی طور پر چاہے کوئی فرد ہو یا کوئی شاپنگ ہو ، کوئی ادارہ ہو ، جو بھی وزارت صحت کے جانب سے جاری کردہ ہدایت پر عمل نہیں کریگا۔ دراصل وہ وبائی مرض فیلانے کا مجرم ہوگا۔ تو اُن کو بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ سخت سے سخت سزائیں دلوائیں جائنگی۔

ریاض کی بلدیا نے بتایا کہ تمام غیر ملکی افراد اور سعودی شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ وبائی مرض کورونا کو اگر آپ تمام لوگ کنٹرول دیکھنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر خلاف ورزی کرنے والے افراد کی شکایت نو ۹۴۰ ہمارا نمبر ہے ، ہماری چھاپا مار ٹیمیں 24 گھنٹے مستند ہیں ایسے اداروں اور ایسے افراد کے خلاف کمپلینٹ اگر ہمیں ملے گی ، تو فوری طور پر ادارہ حرکت میں آئے گا اور تمام جگہوں کو سیل کیا جائے گا۔

ابھی تازہ ترین جو اطلاعات آئی ہیں کہ چودہ ادارے اور مختلف شاپنگ سینٹرز کو باقاعدہ سیل بھی کر دیا گیا ہے۔ مزید جو اطلاع دی ہیں کہ 20 سے زیادہ افراد کسی بھی تقریب میں کسی بھی طور پر شرکت کریں گے ، چاہے جنازہ کی تقریب ہو یا شادی کی تقریب ہو ،ایسے افراد کو بھاری جرمانے کئے جائیں گے پانچ ہزار جرمانہ فی فرد ہوگا۔ جس نے تقریب منعقد کی ہوگی اس کو ایک لاکھ ریال جرمانہ کیا جائے گا۔ دوسری دفعہ یہیں اگر قریب منعقد کرے گی تو جرمانے ڈبل ہو جائیں گے اور غیر ملکی افراد پورٹ بھی کر دیئے جائیں گے۔

وزارت بلدیہ جو سعودی عرب میں اس وقت بہت موثر طریقے سے کام کر رہے ہیں ، بتایا ہے کہ قبرستانوں میں جنازے کی نماز 24 گھنٹے کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہے مگر بھیڑ بھاڑ بالکل برداشت نہیں کی جائے گی ۔ لازمی طور پر فاصلہ رکھ کر تمام کام کیے جائیں ۔ ہم پچھلے کافی ٹائم سے اس چینلز پر آپ تمام بھائیوں کو جو بھی حالات انٹرنیشنل لیول پر بیگڑ رہے تھے بتاتا آیا تھا مختلف غیر ملکی افراد اسے سمجھ نہیں پایا مگر آج کے حالات انہیں سمجھانے کے لیے کافی ہے ہیں ۔

ریاض میں سیکورٹی اہلکاروں نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے پانچ غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا ہے یہ غیر ملکی افراد ایک شراب کی باقاعدہ فیکٹری اپنے مکان میں بنا کر بیٹھے تھے 70 کے قریب مختلف قسم کی ٹینکر انہوں نے پانی کی رکھی تھی جس میں شراب تیار کرکے جمع کرتے تھے اور 700 کے قریب مختلف بوتلیں بھی ان کے پاس سے پکڑی گئی ہیں ، ان غیر ملکی افراد کا تعلق ایشیا ممالک جس میں تین نپالی اور دو انڈین افراد شامل ہیں۔

جس نے ملوث پائے گئے ہیں سکیورٹی اداروں نے تمام کا تمام سیٹ اپ سیل کرنے کے بعد ان تینوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے سعودی پبلک پروسکیوشن کے حوالے کردیا ہیں ۔ سعودی سیکورٹی اداروں نے بتایا کہ ان افراد نے باقاعدہ گھر میں مکمل ایک سیٹ اپ بنایا ہوا تھا جہاں شراب تیار کرکے مختلف جگہوں پر یہ سپلائی کرتے تھے ، کہا کہاں یہ سپلائی کرتے تھے ، پورے افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے لہازا تمام غیر ملکی اور سعودی شہری اس بارے میں جو بھی معلومات ہو اداروں کو فراہم کی جائے کیوں کہ ایسے افراد مملکت میں کسی بھی طور پر رہنے کے قابل نہیں ہیں ۔


اپنا تبصرہ بھیجیں